قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابٌ فِي الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجَنَائِزَ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1776 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

 

تمہید کتاب  (

باب: کیا اعتکاف والا آدمی کسی بیمار کی عیادت کر سکتا ہےیا جنازے میں شریک ہو سکتا ہے؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1776.   ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی اور وہاں کوئی بیمار ہوتا تو میں چلتے چلتے ہی اس کی خیریت پوچھ لیتی تھی۔ انہوں نے فرمایا: جب لوگ اعتکاف میں ہوتے تھے تو رسول اللہ ﷺ گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے مگر قضائے حاجت کے لیے۔