قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

179 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: «تُضَامُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ؟» قُلْنَا: لَا، قَالَ: «فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، إِلَّا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: فرقہ جہمیہ نے جس چیز کا انکار کیا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

179.   حضرت ابو سعید (خدری) ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہےجبکہ (آسمان پر) بادل بھی نہ ہو؟‘‘ ہم نے کہا: جی نہیں۔ فرمایا: ’’کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جب کہ بادل بھی نہ ہو؟‘‘ صحابہ نے کہا: جی نہیں ۔ فرمایا: ’’تمہیں اللہ کی زیارت میں اتنی ہی دشواری ہوگی جتنی سورج اور چاند دیکھنے میں ہوتی ہے۔‘‘