موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ)
حکم : صحیح
1869 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي» ، فَآذَنَتْهُ، فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو الْجَهْمِ بْنُ صُخَيْرٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُسَامَةُ» ، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ، أُسَامَةُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ» ، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ بِهِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل
باب: پیغام نکاح پر پیغام نکاح دینے کی ممانعت
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1869. حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تیری عدت ختم ہو جائے تو مجھے بتانا۔ (عدت ختم ہونے پر) انہوں نے آپ کو اطلاع دی۔ انہیں حضرت معاویہ، ابوجہم بن صخیر اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنھم نے نکاح کے لیے پیغام بھیجے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معاویہ (ؓ) تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس مال نہیں، ابوجہم (ؓ) عورتوں کو بہت مارتے ہیں لیکن اسامہ ؓ (بہترین ہیں۔) حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کر کے کہا: اسامہ! اسامہ! اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت تیرے لیے بہتر ہے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے بیان کیا: میں نے ان سے نکاح کر لیا، پھر مجھ پر رشک کیا گیا۔