موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ)
حکم : ضعیف
1900 . حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَجْلَحُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّي» ، قَالَتْ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ، فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل
باب: گیت گانا اور دف بجانا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1900. حضرت عبداللہ بن عبس ؓ سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے اپنی ایک رشتہ دار انصاری لڑکی کی شادی کی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: تم لوگوں نے لڑکی کو رخصت کر دیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: کیا تم نے اس کے ساتھ کسی کو بھیجا ہے جو گیت گائے؟ ام المومنین ؓ نے کہا: جی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار لوگ گیت وغیرہ پسند کرتے ہیں۔ (بہتر ہوتا) اگر تم اس کے ساتھ (کسی کو) بھیجتے جو کہتا: (أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ) ہم تمہارے پاس آئے ہیں۔ ہم تمہارے پاس آئے ہیں۔ ہمیں بھی مبارک، تمہیں بھی مبارک۔