موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ الْمَرْأَةِ تَهَبُ يَوْمَهَا لِصَاحِبَتِهَا)
حکم : ضعیف
1973 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي، وَلَكِ يَوْمِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ، إِلَيْكِ عَنِّي، إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ» ، فَقَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ، فَرَضِيَ عَنْهَا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل
باب: عورت اپنی باری دوسری بیوی کو دے سکتی ہے
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1973. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کو حضرت صفیہ بنت حیی ؓ کی کوئی بات ناگوار گزری۔ (چنانچہ نبی ﷺ نے بے رخی کا اظہار فرمایا۔) حضرت صفیہ ؓ نے کہا: اے عائشہ! کیا تم رسول اللہ ﷺ کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو؟، اور میرا (ایک) دن تمہارا ہوا۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ حضرت عائشہ ؓ نے زعفران سے رنگی ہوئی اپنی ایک اوڑھنی لی۔ اس پر پانی چھڑکا تاکہ خوشبو مہک اٹھے، پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب آ بیٹھیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: عائشہ! پرے رہو، آج تمہاری باری کا دن نہیں۔ انہوں نے کہا: ﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللهِ...﴾ ’’یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اور پوری بات بتائی۔ چنانچہ نبی ﷺ حضرت صفیہ ؓ سے راضی ہو گئے۔