موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ ضَرْبِ النِّسَاءِ)
حکم : حسن صحیح
1985 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَضْرِبُنَّ إِمَاءَ اللَّهِ» ، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَأْمُرْ بِضَرْبِهِنَّ، فَضُرِبْنَ، فَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفُ نِسَاءٍ كَثِيرٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: «لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً، كُلُّ امْرَأَةٍ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، فَلَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل
باب: عورتوں کو مارنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1985. حضرت ایاس بن عبداللہ بن ابوذباب ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو ہرگز نہ مارو۔ (چند دن بعد) حضرت عمر نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! عورتیں اپنے خاوندوں کے سامنے جرأت دکھانے لگی ہیں (اور گستاخ ہو گئی ہیں۔) نبی ﷺ نے انہیں مارنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ انہیں مار پڑی۔ تب بہت ی عورتوں نے آل محمد ﷺ (ازواج مطہرات ؓن) کے ہاں چکر لگائے (اور امہات المومنین ؓن سے اپنے خاوندوں کی شکایتیں کیں۔) صبح کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج رات آل محمد (ﷺ) کے ہاں ستر عورتیں آئیں۔ ہر عورت اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی۔ تم دیکھو! ایسے لوگ اچھے نہیں ہیں۔