قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

201.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْسِمِ، فَيَقُولُ: «أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: فرقہ جہمیہ نے جس چیز کا انکار کیا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

201.   حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ حج کے ایام میں لوگوں سے ملاقاتیں کرتےتھے اور فرماتے تھے: ’’کیا کوئی آدمی ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے؟ قریش تو مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روکتے ہیں۔‘‘