قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

202 .   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} [الرحمن: 29] ، قَالَ: «مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: فرقہ جہمیہ نے جس چیز کا انکار کیا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

202.   حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ آیت مبارکہ: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ﴾ ’’ہر روز وہ ایک شان میں ہے۔‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’یہ بھی اس کی شان ہے کہ وہ گناہ معاف کرتا ہے، پریشانی دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلندیوں سے نوازتا ہے اور کسی کو پست کر دیتا ہے۔‘‘