قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ (بَابُ مَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2101.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: «لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ حَلَفَ بِاللَّهِ فَلْيَصْدُقْ، وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ بِاللَّهِ، فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جسے اللہ کی قسم کھا کر کچھ بتایا جائے ، اسے تسلیم کر لینا چاہیے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2101.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے ایک آدمی کو اپنے باپ کی قسم کھاتے سنا تو فرمایا: اپنے باپوں کی قسمیں نہ کھایا کرو۔ اور جو شخص اللہ کی قسم کھائے اسے چاہیے کہ سچ بولے۔ اور جس کے لیے (اس کے مطالبے پر) اللہ کی قسم کھائی جائے، اسے چاہیے کہ (اس قسم پر) راضی ہو جائے۔ اور جو اللہ سے راضی نہیں ہوتا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔