موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ (بَابُ إِبْرَارِ الْمُقْسِمِ)
حکم : ضعیف
2116 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِأَبِي نَصِيبًا مِنَ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ» ، فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتَنِي؟ قَالَ: أَجَلْ، فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ فُلَانًا وَالَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، وَجَاءَ بِأَبِيهِ لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ» ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَمَسَّ يَدَهُ، فَقَالَ: «أَبْرَرْتُ عَمِّي، وَلَا هِجْرَةَ» .
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل
باب: قسم دینے والے کی قسم پوری کرنا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2116. حضرت عبدالرحمٰن بن صفوان یا حضرت صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس دن مکہ فتح ہوا، وہ اپنے والد کو لے کر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہجرت میں میرے والد کو بھی شریک کر لیجئے (انہیں مہاجرین میں شمار کر لیجئے۔) آپ ﷺ نے فرمایا: (اب) کوئی ہجرت نہیں۔ وہ حضرت عباس ؓ کے پاس چلے گئے، اور کہا: آپ نے مجھے پہچانا؟ عباس ؓ نے کہا: ہاں (تب انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا) تو حضرت عباس ؓ صرف قمیص پہنے ہوئے (ان کے ساتھ) چل دیے، چادر بھی نہ اوڑھی۔ اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ فلاں صاحب سے واقف ہیں اور ان سے ہمارے کو تعلقات ہیں (وہ بھی آپ کو معلوم ہیں) وہ اپنے والد کو لے کر حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ان سے ہجرت کی بیعت لیں تو نبی ﷺ نے فرمایا (اب) کوئی ہجرت نہیں۔ حضرت عباس ؓ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں۔ (اس پر) نبی ﷺ نے ہاتھ بڑھا کر ان صاحب کا ہاتھ چھو لیا اور فرمایا: میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی ہے اور ہجرت کوئی نہیں۔