قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ (بَابُ مَنْ خَلَطَ فِي نَذْرِهِ طَاعَةً بِمَعْصِيَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2136 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَصُومَ وَلَا يَسْتَظِلَّ إِلَى اللَّيْلِ، وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَلَا يَزَالُ قَائِمًا، قَالَ: «لِيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَجْلِسْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ».

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: ایسی نذر ماننا جس میں نیکی اور گناہ دونوں شامل ہوں

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2136.   حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو دھوپ میں کھڑا تھا تو آپ نے فرمایا: یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ روزہ رکھے گا، رات تک سائے میں نہیں آئے گا، کلام نہیں کرے اور کھڑا رہے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے چاہیے کہ کلام کرے، سائے میں آئے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔