قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2178 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَلَقَّوْا الْأَجْلَابَ، فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا فَاشْتَرَى، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا أَتَى السُّوقَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: باہر سے سامان لانے والے تاجروں کو ( شہر میں پہنچنے سے پہلے ) جا کر ملنے کی ممانعت کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2178.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: سامان لانے والے تاجروں کو (آگے جا کر) نہ ملو۔ جو شخص کسی (تاجر) سے جا کر ملا اور اس سے (سامان) خرید لیا تو مالک (بیچنے والا) جب بازار میں پہنچے گا تو اسے اختیار ہو گا (کہ سودا قائم رکھے یا منسوخ کر دے۔)