قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ بَيْعِ الْعُرْبَانِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

2193 .   حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ، كَاتِبُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ» . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: الْعُرْبَانُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ دَابَّةً بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَيُعْطِيَهُ دِينَارَيْنِ عُرْبُونًا، فَيَقُولُ إِنْ لَمْ أَشْتَرِ الدَّابَّةَ فَالدِّينَارَانِ لَكَ، وَقِيلَ: يَعْنِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ، أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الشَّيْءَ فَيَدْفَعَ إِلَى الْبَائِعِ دِرْهَمًا، أَوْ أَقَلَّ، أَوْ أَكْثَرَ، وَيَقُولَ: إِنْ أَخَذْتُهُ وَإِلَّا فَالدِّرْهَمُ لَكَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: بیعانہ کے ساتھ خرید و فروخت

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2193.   حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔ ابو عبداللہ (امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ) نے فرمایا: بیع عربان اسے کہتے ہیں کہ ایک آدمی کوئی جانور سو دینار کا خریدے اور اسے (بیچنے والے کو) دو دینار بیعانہ دے دے اور کہے: اگر میں نے یہ جانور نہ خریدا تو یہ دو دینار تیرے ہوں گے۔ ایک قول کے مطابق اس کا مطلب۔ واللہ اعلم، یہ ہے کہ آدمی کوئی بھی چیز خریدے اور بیچنے والے کو ایک درہم یا کم و بیش (پیشگی) ادا کر دے اور کہے: اگر میں نے یہ سودا لے لیا (اور بیع فسخ نہ کی) تو ٹھیک ہے ورنہ یہ درہم تیرا ہو گا۔