قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَنْ قَالَ: لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2258.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ بِالصَّرْفِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الصَّرْفِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (ان لوگوں کے دلائل)جو کہتے ہیں کہ سود صرف ادھار میں ہوتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2258.   حضرت ابو جوزاء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے (براہ راست) سنا کہ وہ بیع صرف کا حکم دیتے تھے (اسے جائز کہتے تھے) اور ان سے یہ قول روایت کیا جاتا تھا، پھر مجھے خبر ملی کہ انہوں نے اس قول سے رجوع کر لیا ہے، چنانچہ میں ان سے مکہ جا کر ملا اور عرض کیا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے (صَرف کے جواز سے) رجوع کر لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! وہ قول میری اپنی رائے تھی۔ اور یہ ابو سعید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے۔