قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَحْكَامِ (بَابُ الرَّجُلَانِ يَدَّعِيَانِ السِّلْعَةَ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

2330 .   حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جب دو آدمی کسی چیز ( کی ملکیت ) کے دعوے دار ہوں اور ان میں سے کسی کے پاس گواہی نہ ہو

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2330.   حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے مقدمہ پیش کیا، ان کے درمیان (جھگڑے کی وجہ) ایک جانور تھا۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھا تو نبی ﷺ نے ان دونوں کو وہ جانور آدھا آدھا تقسیم کر دیا (کہ وہ جانور فروخت کر کے قیمت آپس میں تقسیم کر لیں۔)