قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

245 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ؛ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: جس نے ساتھیوں کے پیچھے چلنا پسند نہ کیا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

245.   حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی ﷺ شدید گرمی میں بقیع الغرقد کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ دوسرے حضرات آپ ﷺ کے پیچھے چلے آ رہے تھے۔ آپ نے ان کے جوتوں کی آواز سنی تو ناگواری محسوس ہوئی۔ لہٰذا آپ ﷺ بیٹھ گئے حتی کہ صحابہ‬ ؓ ک‬و آگے نکل جانے دیا تاکہ آپ کے دل میں فخر کی کوئی کیفیت پیدا نہ ہو جائے۔