موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الرُّهُونِ (بَابُ إِقْطَاعِ الْأَنْهَارِ وَالْعُيُونِ)
حکم : حسن
2475 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ مِلْحُ سُدِّ مَأْرِبٍ فَأَقْطَعَهُ لَهُ ثُمَّ إِنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ فَاسْتَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ فِي الْمِلْحِ فَقَالَ قَدْ أَقَلْتُكَ مِنْهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ قَالَ فَرَجٌ وَهُوَ الْيَوْمَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ قَالَ فَقَطَعَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخْلًا بِالْجَوْفِ جَوْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل
باب: ندیاں اور چشمے جاگیر کے طور پر دینا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2475. حضرت ابیض بن حمال ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نمک کی کان طلب کی جسے سد مارب کا نمک کہا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے وہ انہیں عطا فرما دی۔ اس کے بعد حضرت اقرع بن حابس تمیمی ؓ نے حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نمک کا وہ ذخیرہ دیکھا ہے، وہ ایسے علاقے میں ہے جہاں (پینے کا) پانی نہیں پایا جاتا۔ جو شخص وہاں جاتا ہے (حسب ضرورت) نمک لے لیتا ہے۔ وہ مسلسل حاصل ہونے والے پانی کی طرح ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابیض بن حمال ؓ سے نمک کی وہ جاگیر واپس طلب فرما لی۔ انہوں نے کہا: میں اس شرط پر واپس کرتا ہوں کہ آپ اسے میری طرف سے صدقہ قرار دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ تیری طرف سے صدقہ ہے۔ وہ مسلسل حاصل ہونے والے پانی کی طرح ہے۔ جو وہاں جائے گا، اس میں سے لے لے گا۔ حضرت فرج بن سعید ؓ نے فرمایا: وہ آج تک اسی طرح ہے۔ جو کوئی وہاں جاتا ہے (حسب ضرورت نمک) لے لیتا ہے۔ راوی کہتا ہے: نبی ﷺ نے جب ان سے نمک کا ذخیرہ واپس لیا تو اس کے بدلے میں انہیں جرف مراد کے مقام پر زمین کا ٹکڑا دیا اور کھجوروں کا باغ عطا فرمایا۔