قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ اللُّقَطَةِ (بَابُ الْتِقَاطِ مَا أَخْرَجَ الْجُرَذُ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

2508 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّهَا كَرِيمَةَ بِنْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَتْهَا عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْبَقِيعِ وَهُوَ الْمَقْبَرَةُ لِحَاجَتِهِ وَكَانَ النَّاسُ لَا يَذْهَبُ أَحَدُهُمْ فِي حَاجَتِهِ إِلَّا فِي الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَإِنَّمَا يَبْعَرُ كَمَا تَبْعَرُ الْإِبِلُ ثُمَّ دَخَلَ خَرِبَةً فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ لِحَاجَتِهِ إِذْ رَأَى جُرَذًا أَخْرَجَ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ آخَرَ حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ حَمْرَاءَ قَالَ الْمِقْدَادُ فَسَلَلْتُ الْخِرْقَةَ فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا فَتَمَّتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى أَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا فَقُلْتُ خُذْ صَدَقَتَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ارْجِعْ بِهَا لَا صَدَقَةَ فِيهَا بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ثُمَّ قَالَ لَعَلَّكَ أَتْبَعْتَ يَدَكَ فِي الْجُحْرِ قُلْتُ لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ قَالَ فَلَمْ يَفْنَ آخِرُهَا حَتَّى مَاتَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: گم شدہ چیز ملنے سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: چوہا بل سے جو کچھ نکالے اسے اٹھا لینا جائز ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2508.   حضرت ضباعہ بنت زبیر‬ رحمۃ اللہ علیہا ن‬ے حضرت مقداد بن عمرو ؓ سے روایت بیان کی کہ وہ ایک دن قضائے حاجت کے لیے بقیع کے قبرستان کی طرف گئے۔ (اس زمانے میں) لوگوں کی حالت یہ تھی کہ آدمی دو تین دن میں ایک بار قضائے حاجت کے لیے جاتا۔ (تب بھی) اس طرح مینگنیاں کرتا جس طرح اونٹ مینگنیاں کرتے ہیں۔ وہ ایک کھنڈر میں چلے گئے۔ وہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چوہا نظر آیا۔ اس نے بل میں سے ایک دینار نکالا، پھر بل میں گیا اور ایک اور دینار نکال لایا حتی کہ اس نے (ایک ایک کر کے) سترہ دینار نکالے۔ پھر ایک سرخ کپڑے کا ٹکٹا نکال لایا۔حضرت مقداد کہتے ہیں: میں نے کپڑے کو اٹھا کر دیکھا تو مجھے اس میں بھی ایک دینار ملا۔ یہ سب اٹھارہ دینار ہو گئے۔ میں انہیں لے کر (کھنڈر سے) باہر آ گیا اور انہیں لا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اور ان دیناروں کے ملنے کا واقعہ عرض کیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! ان کی زکاۃ لے لیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں لے جاؤ، ان میں کوئی زکاۃ نہیں (کیونکہ بیس دینار کا نصف پورا نہیں ہوا۔) اللہ تجھے ان میں برکت دے۔ پھر فرمایا : شاید تو نے بل میں ہاتھ ڈالا ہو گا؟ میں نے کہا: نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت بخشی! راوی نے کہا: ان کی وفات تک وہ دینار ختم نہ ہوئے۔