موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ)
حکم : صحیح
2547 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ قَدْ أَعَاذَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَسْرِقَ وَكُلُّ مُسْلِمٍ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذَا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل
باب: حد سے بچاؤ کے لیے سفارش کرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2547. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قریش بنو مخزوم کی اس خاتون کے معاملے میں بہت فکر مند ہوئے جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون عرض کر سکتا ہے؟ (آخر) انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پیارے اسامہ بن زید ؓ کے سوا اور کون یہ جرأت کر سکتا ہے؟ چنانچہ حضرت اسامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تو اللہ کی ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ اٹھے اور خطبہ ارشاد فرمایا، (خطبے میں) نبی ﷺ نے فرمایا: لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے تباہ ہوئے کہ ان میں جب کوئی معزز (امیر) آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور (غریب) آدمی چوری کرتا تو اسے حد لگا دیتے۔ قسم ہے اللہ کی! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ (ؓ) بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ راوی حدیث محمد بن رمح نے کہا: میں نے امام لیث بن سعد ؓ کو فرماتے ہوئے سنا، وہ بیان کر رہےتھے: اللہ تعالیٰ نے انہیں (حضرت فاطمہ ؓ کو) چوری (جیسی نازیبا حرکت) سے محفوظ فرمایا تھا۔ اور ہر مسلمان کو یہی کہنا چاہیے (کہ حضرت فاطمہ ؓ سے اس قسم کی غلطی کا صدور ممکن نہیں لیکن قانون اعلیٰ اور ادنیٰ سب کے لیے برابر ہے۔)