موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ)
حکم : ضعیف
2548 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا قَالَ لَمَّا سَرَقَتْ الْمَرْأَةُ تِلْكَ الْقَطِيفَةَ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمْنَا ذَلِكَ وَكَانَتْ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَجِئْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُكَلِّمُهُ وَقُلْنَا نَحْنُ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا فَلَمَّا سَمِعْنَا لِينَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَيْنَا أُسَامَةَ فَقُلْنَا كَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ مَا إِكْثَارُكُمْ عَلَيَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَعَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ نَزَلَتْ بِالَّذِي نَزَلَتْ بِهِ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل
باب: حد سے بچاؤ کے لیے سفارش کرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2548. حضرت مسعود ابن اسود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کے گھر سے کمبل چرا لیا تو ہم اس معاملے میں بہت فکرمند ہوئے۔ وہ قریش کی ایک عورت تھی۔ ہم بات کرنے کے لیے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا: ہم اس کے جرمانے کے طور پر چالیس اوقیے (چاندی) دے دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے یہی بہتر ہے کہ اسے (سزا دے کر گناہ سے) پاک کر دیا جائے۔ ہم نے جب رسول اللہ ﷺ کی نرم گفتگو سنی تو ہم حضرت اسامہ ؓ کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول ﷺ سے بات کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو خطبہ دینے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: تم اللہ کی ایک حد (کے نفاذ کو روکنے) کے لیے اصرار کیوں کر رہے ہو جو اللہ کی ایک بندی پر آ پڑی ہے؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اگر اللہ کے رسول (ﷺ) کی بیٹی بھی وہ غلطی کرتی جو اس عورت نے کی ہے تو محمد (ﷺ) اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔