موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ الرَّجْمِ)
حکم : حسن صحیح
2554 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ قَدْ زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ بِيَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ فَصَرَعَهُ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ فَقَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل
باب: سنگسار کرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2554. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ماعز بن مالک ؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ اس نے پھر (تیسری بار) کہا: میں نے زنا کیا ہے تو نبی ﷺ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس نے پھر (چوتھی بار) کہا: میں نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس سے منہ پھیرتے رہے حتی کہ اس نے چار بار اقرار کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے رجم کیے جانے کا حکم دے دیا، چنانچہ جب اسے پتھر لگے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا۔ اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی۔ اس نے وہی مار دی جس سے وہ گر گیا (اور جان دے دی۔) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پتھر لگنے پر اس کے بھاگنے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟