قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2559 .   حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ فُلَانَةَ فَقَدْ ظَهَرَ مِنْهَا الرِّيبَةُ فِي مَنْطِقِهَا وَهَيْئَتِهَا وَمَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جو بظاہر بدکار معلوم ہو ( لیکن جرم باقاعدہ ثابت نہ ہو )

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2559.   حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو گواہی قائم ہوئے بغیر رجم کرتا تو فلاں عورت کو ضرور رجم کر دیتا۔ اس کی بات چیت، چال ڈھال اور اس کے پاس آنے جانے والوں کی وجہ سے وہ بظاہر مشکوک نظر آتی ہے۔