موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ هَلْ لِقَاتِلِ مُؤْمِنٍ تَوْبَةٌ)
حکم : صحیح
2621 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى، قَالَ: وَيْحَهُ، وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى؟ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَجِيءُ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقٌ بِرَأْسِ صَاحِبِهِ يَقُولُ: رَبِّ سَلْ هَذَا لِمَ قَتَلَنِي؟ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ، ثُمَّ مَا نَسَخَهَا بَعْدَمَا أَنْزَلَهَا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: کیا مومن کے قا تل کی توبہ قبول ہو ستکی ہے؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2621. حضرت سالم بن ابو جعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، عبداللہ بن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ اس شخص کا کیا حکم ہے جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، پھر توبہ کر لی، ایمان لایا، نیک اعمال کیے اور ہدایت اختیار کی؟ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا: افسوس! اسے ہدایت کہاں مل سکتی ہے؟ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’قیامت کے دن قاتل اس حال میں حاضر ہوگا کہ مقتول نے اس کا سر پکڑ رکھا ہوگا اور وہ کہے گا: یا رب! اس سے پوچھ ، اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ ‘‘ اللہ کی قسم ! اللہ نے وہ آیت تمہارے نبی پر نازل فرمائی، پھر نازل فرمانے کے بعد منسوخ نہیں کی۔