موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ مَا يُرْجَى فِيهِ الشَّهَادَةُ)
حکم : صحیح
2803 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِهِ إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلَ شَهَادَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْمَطْعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ يَعْنِي الْحَامِلَ وَالْغَرِقُ وَالْحَرِقُ وَالْمَجْنُوبُ يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ شَهَادَةٌ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل
باب: کون کون سی موت سے شہادت کا درجہ ملنے کی امید ہے
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2803. حضرت جابر بن عتیک ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبیﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ گھروالوں میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو امید تھی کہ وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوکر شہادت کی موت پائیں گے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: (اگر صرف میدان جنگ میں مرنا ہی شہادت ہے) تب تومیری امت کے شہید بہت تھوڑے ہوں گے۔ اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے۔ طاعون سے مرنا بھی شہادت ہے اور جو عورت حمل کے حالت میں فوت ہو جائے وہ بھی شہید ہے ۔ ڈوب کر مرنے والا، جل کر مرنے والا اور ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے۔