قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3058 .   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: «فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالُوا: هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ: «فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟» ، قَالُوا: شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ: «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، وَدِمَاؤُكُمْ، وَأَمْوَالُكُمْ، وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الشَّهْرِ فِي هَذَا الْيَوْمِ» ثُمَّ قَالَ: «هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: قربانی کے دن خطبہ دینا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3058.   حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج ادا فرمایا، اس حج کے موقع پر قربانی کےدن جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے۔ (اس وقت) نبیﷺنے فرمایا: ’’یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا قربانی کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ کون سا شہر ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے۔ آپ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ حج اکبر کا دن ہے اور تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیےاسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح اس مہینے کےاس دن میں اس شہر کا احترام ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’کیا میں نے پہنچا دیا؟‘‘ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ تب نبیﷺ نےفرمایا: ’’اے اللہ! گواہ رہ۔‘‘ پھر لوگو ں کو الوداع کہا۔ صحابہ نے کہا: یہ حجۃ الوداع، یعنی الوداعی حج ہے۔