موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ فِدْيَةِ الْمُحْصِرِ)
حکم : صحیح
3079 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] قَالَ كَعْبٌ: فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: «مَا كُنْتُ أُرَى الْجُهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] قَالَ: «فَالصَّوْمُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: رکاوٹ والے کا فدیہ
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3079. حضرت عبداللہ بن معقل ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں حضرت کعب بن عجرہ ؓ کے پاس جا بیٹھا اور ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا: فوائد و مسائل: ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ ’’تو فدیہ ہے روزوں سے یا صدقے سے یا قربانی سے‘‘۔ حضرت کعب ؓ نے فرمایا: یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مجھے سر میں (جوؤں کی وجہ سے) تکلیف تھی۔ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا گیا جبکہ جوئیں (سر کے بالوں سے) جھڑ جھڑ کر میرے چہرے پر گر رہی تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرا یہ خیال نہیں تھا کہ تمہیں اس حد تک تکلیف ہو گی جتنی میں (اب) دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہیں ایک بکری مل سکتی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ ’’تو فدیہ ہے روزوں سے یا صدقے سے یا قربانی سے۔‘‘ صحابی نے فرمایا: روزے تو تین دن کے ہیں اور صدقہ چھ مسکینوں کو دیا جائے، ہر مسکین کو آدھا صاع غلہ دیا جائے۔ اور قربانی (کی مقدار) ایک بکری ہے۔