قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ أَكْلِ الْبَلَحِ بِالتَّمْرِ)

حکم : موضوع

ترجمة الباب:

3330 .   حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ، كُلُوا الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَبُ، وَيَقُولُ بَقِيَ ابْنُ آدَمَ، حَتَّى أَكَلَ الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: تازہ پکی ہوئی کھجور خشک کھجور کے ساتھ کھانا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3330.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تازہ پکی ہوئی کھجور خشک کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا کرو۔ پرانے (پھل) کو نئے کے ساتھ ملا کر کھاؤ۔ (اس سے) شیطان کو غصہ آتا ہے اور وہ کہتا ہے: آدم کا بیٹا جیتا رہا حتی کہ اس نے نئی چیز کے ساتھ پرانی چیز بھی کھائی۔‘‘