موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ أَكْلِ الثِّمَارِ)
حکم : ضعیف
3368 . حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنَبٌ مِنَ الطَّائِفِ، فَدَعَانِي فَقَالَ: «خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ، فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ» فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ، قَالَ لِي: «مَا فَعَلَ الْعُنْقُودُ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ؟» قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَسَمَّانِي غُدَرَ ‘‘
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: پھل کھانا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3368. حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبیﷺکی خدمت میں طائف کےانگور ہدیہ کے طور پر پیش کیے گئے۔ آپﷺنے مجھے بلایااور فرمایا: ’’یہ خوشہ اپنی والدہ کے پاس لے جاؤ۔‘‘میں نے والدہ کے پاس پہنچانے سے پہلے خود ہی کھا لیا۔ پھر کئی راتوں کے بعد رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا: ’’اس خوشے کا کیا بنا؟ کیا وہ اپنی والدہ کو پہنچا دیا تھا؟‘‘ میں نے کہا: نہیں۔ رسول اللہﷺنے میرا نام دھوکے باز رکھ دیا (مجھے دھوکے باز فرمایا)