قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3449 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا، وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ، فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، وَهُوَ مَرِيضٌ، فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، وَقَالَ: لَنَا عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، فَاسْحَقُوهَا، ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ، بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ، فِي هَذَا الْجَانِبِ وَفِي هَذَا الْجَانِبِ، فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمْ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ السَّامُ» قُلْتُ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: «الْمَوْتُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: کالا دانہ (کلونجی)

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3449.   حضرت خالد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نےکہا: ہم لوگ سفر میں تھے۔ ہمارے ساتھ حضرت غالب بن ابحر بھی تھے۔ وہ راستے میں بیمار ہوگئے۔ ہم لوگ مدینہ پہنچے تو وہ (اس وقت بھی) بیمار تھے۔ حضرت ابن ابی عتیق رحمۃ اللہ علیہ (عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر) ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے تو ہم سے فرمایا: تم یہ کالا دانہ (کلونجی ) استعمال کرو۔ اس کے پانچ سات دانےلے کر پیس لو، پھر زیتون کے تیل میں ملا کر ان کی ناک میں چند قطرے اس طرف اور چند اس طرف (نتھنوں میں) ڈالو کیونکہ حضرت عائشہ‬ ؓ ب‬یان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’یہ کالا دانہ ہر بیماری کی شفا ہے، سوائے اس کے کہ سام (ہی مقدر) ہو،‘‘ میں نے کہا: سام کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ’’موت‘‘