قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

355 .   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ فَمَا طُهُورُكُمْ قَالُوا نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَنَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ قَالَ فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

تمہید کتاب  (

باب: پا نی سے استنجا کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

355.   حضرت ابو ایوب انصاری ؓ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ ’’اس مسجد میں ایسے آدمی (نماز پڑھتے) ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ بھی پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے تمہاری صفائی پسندی کی تعریف کی ہے۔ تمہاری صفائی کیسی ہوتی ہے؟‘‘  انہوں نے عرض کیا: ہم نماز کے لئے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ یہی بات ہے۔ اس کو اختیار کیے رکھنا۔‘‘