قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ الِاسْتِغْفَارِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3817.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَكَانَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً

سنن ابن ماجہ:

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اسغفار(اللہ سے گناہوں کی معافی کےلیےدعا کرنا)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3817.   حضرت حُدیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے گھروالوں سے درشت زبان استعمال کیا کرتا تھا۔ (معمولی بات پر ان پر غصہ آجاتا اور انہیں ڈانٹ جھڑک دیتا)، ان کے سوا کسی سے یہ رویہ نہیں ہوتا تھا۔ میں نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم استغفار کیوں نہیں کرتے؟ ایک دن میں ستر بار استغفار کیا کرو۔