قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدُّعَاءِ (بَابُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِﷺ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3830 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ فِي مَجْلِسِ الْأَعْمَشِ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ فِي زَمَنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكَتِّبِ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى لِي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مُطِيعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ قُلْتُ لِوَكِيعٍ أَقُولُهُ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ قَالَ نَعَمْ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: رسول اللہ ﷺ کی دعا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3830.   حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی دعا میں فرمایاکرتے تھے: (رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى لِي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مُطِيعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي) اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے خلاف (دشمن کی) مدد نہ فرما۔ اور میری تائید فرما، اور میرے خلاف (دشمن کی) تائید نہ فرما۔اور میرے حق میں تدبیر فرما، اور میرے خلاف تدبیر نہ فرما۔ اور مجھے ہدایت دے، اور ہدایت کو میرے لئے آسان کردے۔ اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے رب! مجھے ایسا (بندہ) بنا جو تیرا بہت شکر کرنے والا ہو، تیرا بہت ذکر کرنے والا ہو، تجھ سے بہت ڈرنے والا ہو، تیری اطاعت کرنے والا ہو، تیرے سامنے عاجزی کرنے والا ہو، تیری طرف ہی رورو کر رجوع کرنے والا (اور توبہ کرنے والا) ہو۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھوڈال، میری دعا قبول کر، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان سیدھی رکھ، میری دلیل کو (پختہ اور) قائم رکھ، اور میرے دل سے کینہ نکال دے۔ ابو الحسن نے کہا: میں نے وکیع سے کہا: کیا میں وتر میں یہ دعائیں مانگ لیا کروں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔