قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدُّعَاءِ (بَابُ الْجَوَامِعِ مِنَ الدُّعَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3847 .   حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَتَشَهَّدُ ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنْ النَّارِ أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ قَالَ حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جامع دعائیں

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3847.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: ’’تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: میں تشہد (التحیات پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور(جہنم کی) آگ سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ قسم ہے اللہ کی! مجھے آپ جیسی یا حضرت معاذ ؓ جیسی گنگناہٹ نہیں آتی۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ہم بھی انہی (دونوں) کے بارے میں گنگناتے (سوال کرتے) ہیں۔‘‘