قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ حُرْمَةِ دَمِ الْمُؤْمِنِ وَمَالِهِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

3932 .   حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَيَقُولُ: «مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ، مَالِهِ، وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: مومن کی جان و مال کی حرمت کابیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3932.   حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔ آپﷺ فرما رہے تھے: تو کتنا پاکیزہ ہے! اور تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے! تو کس قدر عظیم ہے! تیرا احترام کتنا عظیم ہے! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اللہ کے ہاں مومن کی حرمت تیری حرمت سے بڑھ کر ہے، یعنی اس کے مال اور جان کی حرمت، اور یہ کہ اس کے بارے میں بدگمانی کرنا بھی حرام ہے۔