موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ)
حکم : صحیح
4028 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِّبَ بِالدِّمَاءِ، قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: «فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ، وَفَعَلُوا» ، قَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ: «نَعَمْ، أَرِنِي» فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي، قَالَ: ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ، فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي، حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ، فَقَالَ لَهَا، فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَسْبِي»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: مصیبت پر صبر کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4028. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، ایک دن جبریل ؑ رسول اللہﷺ کے پاس تشریف لائے تو آپﷺ بہت غمگین بیٹھے ہوئے تھے۔ مکہ کے لوگوں نے نبیﷺﷺ کو خشت زنی کرکے لہو لہان کر دیا تھا۔ جبریل ؑ نے کہا: کیا بات ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ ظلم کیا ہے۔ جبریل ؑ نے فرمایا: کیا آپﷺ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشانی دکھاؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں دکھائیے۔ انہوں نے وادی کی دوسری طرف ایک درخت کی طرف دیکھ کر کہا: اس درخت کو بلائیے۔ نبیﷺ نے اسے بلایا تو وہ چل کر آیا اور آپﷺ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ جبریل ؑ نے کہا: اسے کہیے واپس چلا جائے۔ آپﷺ نے اسے کہا تو وہ واپس ہوگیا حتیٰ کہ اپنی جگہ پر چلا گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔