قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4044 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: «مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا، إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَتِ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ» ، فَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ} [لقمان: 34] الْآيَةَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: علاماتِ قیامت کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4044.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہﷺ لوگوں کے لیے (گھر سے) باہر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی حاضر خدمت ہوا۔ اس نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! قیامت کب آئے گی؟ آپﷺ نے فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ اس (قیامت) کی بابت پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا لیکن میں تجھے اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے تو یہ اس کی ایک علامت ہے۔ جب ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے (فقیر) لوگوں کے رئیس بن جائیں گے تو یہ بھی اس کی ایک نشانی ہے۔ جب بکریوں کے چرواہے ایک دوسرے سے لمبی (اور اونچی) عمارتیں بنانے لگیں تو یہ بھی اس کی ایک علامت ہے۔ (قیامت کا علم) ان پانچ چیزوں میں شامل ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر رسول اللہﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اِنَّ اللّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ﴾ ’’بے شک الله تعاليٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، اور جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اسے جانتا ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہی پورےعلم والا، صحیح خبروں والا ہے۔‘‘