موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْمَلَاحِمِ)
حکم : موضوع
4094 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلَاءَ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي قَالَ إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمْ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الْإِسْلَامِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ فَيُصِيبُونَ غَنَائِمَ لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهَا حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالْأَتْرِسَةِ وَيَأْتِي آتٍ فَيَقُولُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَرَجَ فِي بِلَادِكُمْ أَلَا وَهِيَ كِذْبَةٌ فَالْآخِذُ نَادِمٌ وَالتَّارِكُ نَادِمٌ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: بڑی بڑی جنگوں کابیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4094. حضرت عمرو بن عوف ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت نہیں آئے گی حتی کہ مسلمانوں کے قریب ترین سرحدی محافظ مقام بولاء پر ہوں گے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اے علی ! اے علی!اے علی! ’’حضرت علی ؓ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان (حاضرہوں۔) آپﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ بنواصفر (رومیوں) سے جنگ کروگے اور تمہارے بعد والے بھی ان سے جنگ کریں گے حتی کہ سب سے افضل مسلمان، یعنی حجاز والے ان کے مقابلے کے لئے نکلیں گے۔ انھیں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کاخوف نہیں ہوگا۔ وہ سبحان اللہ اور اللہ اکبر کے نعروں سے قسطنطینیہ کوفتح کرلیں گے۔ انھیں اتنی غنیمتیں ملیں گی جتنی پہلے کبھی نہیں ملی تھیں حتی کہ وہ ڈھالوں کے ذریعے سے تقسیم کریں گے۔(اچانک) ایک شخص آکر کہے گا:تمہارے شہروں میں دجال ظاہر ہوگیا ہے۔ سنو!یہ خبرجھوٹی ہوگی۔ لینے والا بھی شرمندہ ہوگا اور چھوڑنے والا بھی شرمندہ ہوگا۔‘‘