قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ مَعِيشَةِ أَصْحَابِ النَّبِيِّﷺ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4155 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا يَتَحَامَلُ حَتَّى يَجِيءَ بِالْمُدِّ وَإِنَّ لِأَحَدِهِمْ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ قَالَ شَقِيقٌ كَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب:نبی ﷺ کے صحابہ کرام کی گزران

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4155.   حضرت ابو مسعود (عقبہ بن عمرو انصاری) ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ صدقے کا حکم دیتے تو (ہماری یہ کیفیت ہوتی تھی کہ) ہم میں سے کوئی آدمی جا کر مزدوری کرتا اور ایک مُد (کھجور یا جو وغیرہ) لے کر آتا (اور اسے صدقے کے طور پر پیش کردیتا۔) آج تو ایک آدمی کے پاس ایک لاکھ کی رقم بھی موجود ہے۔ (ابو مسعود ؓ کے شاگرد) حضرت شقیق نے کہا: غالباً ان کا اشارہ خود اپنی طرف تھا۔