قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ مَعِيشَةِ أَصْحَابِ النَّبِيِّﷺ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

4158 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالَ الزُّبَيْرُ وَأَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب:نبی ﷺ کے صحابہ کرام کی گزران

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4158.   حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ اپنے والد حضرت زبیر بن عوام ؓ سے بیان کرتے ہیں انھوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی : ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾  ’’پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال ہوگا۔‘‘ حضرت زبیر ؓ نے کہا: ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا؟ ہمیں توصرف پانی اور کھجوریں ہی میسر ہیں ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’آگاہ رہو! یہ (سوال) ضرور ہوگا۔‘‘