قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ ذِكْرِ التَّوْبَةِ)

حکم : منكر بهذا اللفظ

ترجمة الباب:

4249 .   حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَالْتَمَسَهَا حَتَّى إِذَا أَعْيَى تَسَجَّى بِثَوْبِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةَ الرَّاحِلَةِ حَيْثُ فَقَدَهَا فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَاحِلَتِهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: توبہ کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4249.   حضرت ابو سعید ؓ سے روا یت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے اس آدمی سے بھی زیا دہ خوش ہوتا ہے جو کسی چٹیل صحرا میں اپنی سواری گم کر بیٹھا اس نے اسے تلاش کیا حتی کہ جب تھک گیا تو کپڑا اوڑھ کر لیٹ گیا۔ وہ اسی حال میں (لیٹا ہوا) تھا کہ اچانک اسے اپنی سواری کے پاؤں کی آواز وہیں سے سنائی دی جہاں سے وہ گم ہوئی تھی۔ اس نے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو سواری سچ مچ موجود تھی۔