موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): قدسی ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ ذِكْرِ التَّوْبَةِ)
حکم : ضعیف
4257 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيِّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَسَلُونِي الْمَغْفِرَةَ فَأَغْفِرَ لَكُمْ وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَكَانُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ يَزِدْ فِي مُلْكِي جَنَاحُ بَعُوضَةٍ وَلَوْ اجْتَمَعُوا فَكَانُوا عَلَى قَلْبِ أَشْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ يَنْقُصْ مِنْ مُلْكِي جَنَاحُ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ مَا نَقَصَ مِنْ مُلْكِي إِلَّا كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِشَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهَا إِبْرَةً ثُمَّ نَزَعَهَا ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ عَطَائِي كَلَامٌ إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل
باب: توبہ کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4257. حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم سب گنا ہ کرنے والے ہو۔ سوائے اس کے جسے میں محفوظ رکھوں اس لئے مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمھیں بخش دوں گا۔ تم میں سے جو کوئی یقین رکھے کہ میں بخشے کی قدرت رکھتا ہوں ۔ پھر وہ مجھ سے میری قدرت کے واسطے سے بخشش کی درخواست کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا۔ تم سب راہ بھولے ہوئے ہو۔ سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں۔ چنا نچہ مجھ سے ہدایت مانگو میں تمھیں ہدایت دوں گا۔ تم سب فقیر (محتا ج اور مفلس) ہو سوائے اس کے جسے میں غنی کر دوں لہٰذا مجھ سے مانگو میں تمھیں رزق دوں گا۔ اگر تمھارے زندہ، فو ت شدہ، پہلے اور پچھلے، تر اور خشک اکٹھے ہو کر میر ے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی انسا ن جیسے دل والے بن جا ئیں تو اس سے میری بادشا ہت میں مچھر کے پر جتنا بھی اضا فہ نہیں ہو گا۔ اور اگر وہ سب اکٹھے ہوکر میرے بندوں میں سب سے زیا دہ بن نصیب (اور بدکار ) بندے جیسے دل والے بن جائیں اس سے میری بادشا ہت میں مچھر کے پر جتنی کمی نہیں آئے گی۔ اگر تمھا رے زندہ، فو ت شدہ، پہلے اور پچھلے، تر اور خشک الٹھے ہو کر (مجھ سے سوال کریں اور) ہر مانگنے والا وہ سب کچھ مانگ لے جس کی وہ (زیادہ سے زیادہ) تمنا کر سکتا ہے تو اس سے میری بادشاہت میں اتنی ہی کمی نہیں آئے گی۔جیسے کو ئی سمندر کے کنارے پر جا ئے اور اس میں ایک سوئی ڈ بو کر نکال لےکیونکہ میں سخی اور عظمتوں والا ہوں میری عطا کلام کرنا ہے ۔ جب میں کسی چیز کا ارادہ کروں تو اسے صرف یہ کہتا ہوں۔ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔