موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى)
حکم : صحیح
4268 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوفٍ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ كُنْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَصَدَّقْنَاهُ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ رَأَيْتَ اللَّهَ فَيَقُولُ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَ فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ وَيُقَالُ لَهُ عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ وَعَلَيْهِ مُتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا فَيُقَالُ لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي فَيُقَالُ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُهُ فَيُفْرَجُ لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْكَ ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ وَعَلَيْهِ مُتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل
باب: قبر کا اٰور جسم کے گل سڑ جانے کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4268. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میت قبر میں پہنچ جاتی ہے۔ تو نیک آ دمی کو قبر میں (اٹھا کر) بٹھا دیا جاتا ہے۔ اسے کوئی گھبراہٹ اور پریشانی نہیں ہوتی اسے کہا جاتا ہے تو کس چیز میں تھا وہ کہتا ہے۔ اسلا م میں ۔ کہا جاتا ہے۔ یہ آ دمی کون ہے۔ وہ کہتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہمارے پاس اللہ کے ہا ں سے واضح دلائل لے کر آئے تو ہم نے آپ ﷺ کی تصدیق کی۔ کہا جاتا ہے۔ تو نے اللہ کو دیکھا ہے۔ وہ کہتا ہے۔ کو ئی اس قا بل نہیں کہ (دنیا میں) اللہ کو دیکھ سکے۔ تب اس کے لئے جہنم کی طرف ایک دریچہ کھو لا جاتا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے۔ کہ آگ آگ کو تو ڑ پھو ڑ رہی ہے۔ اسے کہا جا تا ہے۔ دیکھ اللہ نے تجھے کس چیز سے بچا لیا ہے۔ پھر اس کے لئے جنت کی طرف دریچہ کھولا جاتا ہے۔ وہ اس کی آب و تا ب اور اس کی نعمتیں دیکھتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے۔ یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ اور اسے کہا جاتا ہے۔ یقین پر تو تھا۔ اور اسی پر تیری وفات ہوئی اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا۔ ان شاء اللہ برے آ دمی کو قبر میں بٹھایا جا تا ہے۔ تو وہ گھبرایا ہوا اور بدحواس ہوتا ہے، اسے کہا جاتا ہے ۔ تو کس چیز میں تھا وہ کہتا ہے۔ معلو م نہیں۔ اسے کہا جاتا ہے۔ (تیری طرف مبعوث ہونے والا) یہ آ دمی کون ہے ۔ وہ کہتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں۔ میں نے لوگو ں کو ایک بات کہتا سنا تھا وہ میں نے بھی کہہ دی۔ تب اس کے لئے جنت کی طرف ایک دریچہ کھولا جاتا ہے۔ اسے اس کی آب و تاب اور اس کی نعمتیں نظر آتی ہیں اسے کہا جاتا ہے۔ دیکھ اللہ نے تجھے کس چیز سے محروم کردیا۔ پھر اس کے لئے جہنم کی طرف دریچہ کھولا جاتا ہے۔ وہ اسے دیکھتا ہے۔ کہ آ گ آگ کو توڑ پھوڑ رہی ہے ۔ اور اسے کہا جاتا ہے۔ یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ تو (زندگی میں بھی) شک پر تھا اور اسی حا لت میں مر گیا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا۔ ان شا ء اللہ۔‘‘