قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ صِفَةِ النَّارِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4321.   حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ الْكُفَّارِ فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً فَيُغْمَسُ فِيهَا ثُمَّ يُقَالُ لَهُ أَيْ فُلَانُ هَلْ أَصَابَكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا مَا أَصَابَنِي نَعِيمٌ قَطُّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلَاءً فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً فَيُقَالُ لَهُ أَيْ فُلَانُ هَلْ أَصَابَكَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلَاءٌ فَيَقُولُ مَا أَصَابَنِي قَطُّ ضُرٌّ وَلَا بَلَاءٌ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جہنم کی کیفیات

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4321.   حضرت انس بن مالک سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن اس کافر کولایا جائےگا۔ جو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں والا تھا۔ (جس کی زندگی سب سے زیادہ عیش وعشرت خوشیوں اور نعمتوں میں گزری) پھر کہا جائے گا: اسے آگ میں ایک غوطہ دو۔ اسے اس میں ایک غوطہ دیا جائےگا۔ پھر کہا جائے گا: اے فلاں! کیا تجھے کبھی کوئی نعمت (اور راحت) بھی حاصل ہوئی ہے۔؟ وہ کہے گا: نہیں مجھے (زندگی بھر) کوئی نعمت (یا راحت) حاصل نہیں ہوئی۔ اور اس مومن کو لایا جائےگا جس کے اوپر سب سے زیادہ سخت مصیبتیں اور آزمائشیں آئيں۔ کہا جائے گا: اسے جنت میں اس کی نعمتوں کی ایک جھلک دکھا کر لاؤ۔ اسے جنت کی ایک جھلک دکھا کر لایا جائے گا۔ اور کہا جائے گا اے فلاں! کیا تجھے کوئی مصیبت اور آزمائش بھی آئی تھی۔؟ وہ کہے گا مجھے تو (زندگی بھر) کبھی کوئی مصیبت یا آزمائش (اور تکلیف) نہیں آئی۔‘‘