قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

450.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ فَقَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ .

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

کتاب تمہید  (

باب: ایڑیاں دھونا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

450.   حضرت عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا ( آپ نے دیکھا کہ جو افراد وضو کر چکے تھے) ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں۔ (جو پاؤں اچھی طرح نہ دھونے کی وجہ سے واضح طور پر خشک نظر آرہی تھیں۔) آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے، وضو اچھی طرح مکمل کرو۔‘‘