قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

56 .   حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى نَشَأَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ، وَأَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، فَقَالُوا بِالرَّأْيِ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: رائے اور قیاس سے پرہیز کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

56.   حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ’’بنی اسرائیل کا معاملہ درست رہا حتٰی کہ ان میں دوسری قوموں کی لونڈیوں کی اولاد پیدا ہوگئی۔ (بڑے ہوکر) انہوں نے اپنی رائے سے مسائل بیان کیے، تو وہ گمراہ ہوئے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کیا۔‘‘