موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلَاةِ)
حکم : ضعیف
807 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ثَلَاثًا، «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» ثَلَاثًا، «سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ثَلَاثَ مَرَّاتِ، «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ» قَالَ عَمْرٌو: هَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: نمازمیں تعوذ پڑھنے کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
807. حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو تین بار فرماتے: (اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا) ’’اللہ بڑا ہے، سب سے بڑا، اللہ بڑا ہے، سب سے بڑا‘‘ پھر تین بار فرماتے: (الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا) ’’سب تعریف اللہ ہی کی ہے، بہت زیادہ تعریف۔ سب تعریف اللہ ہی کی ہے۔ بہت زیادہ تعریف۔‘‘ پھر تین بار کہتے: (سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا) ’’میں صبح شام اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتا ہوں۔‘‘ (اور بعد میں یہ کلمات بھی پڑھتے) (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ) ’’اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، مردود شیطان سے، اس کے (شرارت کے ساتھ) چھونے سے، اس کی پھونک سے اور اس کے تھتکارنے سے۔‘‘ حضرت عمرو(بن مرہ ؓ ) نے فرمایا: اس کے چھونے سے مراد ’’موتہ‘‘ کی بیماری ہے۔ اور اس کا تھتکارنا (خلاف شریعت) شاعری ہے، اور اس کی پھونک تکبر ہے۔