موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ)
حکم : ضعیف
815 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَقَلَّمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا مِنْهُ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ رَجُلًا مِنْهُمْ يَقُولُهُ، فَإِذَا قَرَأْتَ، فَقُلِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2]
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: نماز میں قرأت کی ابتدا کرنا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
815. حضرت یزید بن عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ ) کے بارے میں فرمایا: میں نے اسلام میں بدعت سے نفرت کرنے میں ان سے سخت افراد شاذ و نادر ہی دیکھے ہیں۔ انہوں نے مجھے (نماز میں) ﴿بسم اللہ الرحمن الرحیم ﴾ پڑھتے سنا۔ تو فرمایا: بیٹا! بدعت سے اجتناب کرو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی اقتدا میں بھی نمازیں پڑھی ہیں اور ابو بکر، عمر اور عثمان ؓ کے ساتھ بھی۔ میں نے ان میں سے کسی کو ایسے پڑھتے نہیں سنا۔ اس لئے جب تم قراءت کرو تو کہو: ﴿ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾