موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ)
حکم : صحیح
926 . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَأَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَابْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا» فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، «فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، سَبَّحَ، وَحَمِدَ، وَكَبَّرَ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ» قَالُوا: وَكَيْفَ لَا يُحْصِيهِمَا؟ قَالَ يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ، وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى يَنْفَكَّ الْعَبْدُ لَا يَعْقِلُ، وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ، فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: سلام کے بعد کی دعائیں اور اذکار
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
926. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دو چیزوں پر جو شخص بھی پابندی سے عمل کرتا ہے جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ چیزیں (کام) آسان ہیں (لیکن) ان پر عمل کرنے والے ہیں۔ ہر نماز کے بعد دس دفعہ (سبحان اللہ) کہے ،دس دفعہ (اللہ اکبر) کہے اور دس دفعہ (الحمدللہ) کہے۔‘‘ صحابی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ سے اس عدد کا اشارہ کیا اور فرمایا: ’’یہ زبان سے کہنے میں (پانچوں نمازوں کے حساب سے ) ایک سو بچاس (کلمات) ہیں اور (قیامت کے دن نیکیوں کے) ترازو میں (ایک نیکی کا اجر دس گنا کے اعتبار سے) ایک ہزار پانچ سو ہوں گے۔ اور جب اپنے بستر پر جائے تو (سبحان اللہ) اور ( الحمدللہ) اور ( اللہ اکبر) (سب ملاکر کل) سو مرتبہ کہہ لے، یہ زبان سے کہنے میں سو ہیں اور ترازو میں (دس گنا کے حساب سے) ایک ہزار۔ بھلا تم میں سے کون ہے جو دن میں ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟ ‘‘ (جب کہ نیکیاں وہ ڈھائی ہزار کماتا ہو) صحابہ نے عرض کیا: انسان پابندی سے یہ دونوں عمل کیوں نہیں کر سکتا؟ فرمایا: ’’ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے کہ شیطان آجاتا ہے اور اسے کہتا ہے: فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر حتی کہ بندہ (نمازسے) غافل ہو جاتا ہے اور جب بندہ بستر پر جاتا ہے تو شیطان آجاتا ہے اور اسے سلانے لگتا ہے حتی کہ آدمی کو نیند آجاتی ہے۔‘‘