قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

944 .   - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَرْسَلُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُرُورِ، بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَأَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ» قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ شَهْرًا، أَوْ صَبَاحًا، أَوْ سَاعَةً

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

944.   حضرت بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (کچھ افراد نے) مجھے حضرت زید بن خالد ؓ کی خدمت میں نمازی کے آگے سے گزرنے کا مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اس کے آگے سے گزرنے کی نسبت چالیس تک ٹھہرے رہنا بہتر ہے۔‘‘ سیدنا سفیان (بن عیینہ) ؓ نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ حدیث میں چالیس سال کا لفظ ہے یا (چالیس) مہینے یا دن یا گھڑیاں۔