قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

948 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ» فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: بِيَدِهِ هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هُنَّ أَغْلَبُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: کس چیز کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

948.   حضرت ام المومنین ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے بیان فرمایا: رسول اللہ ﷺ سیدہ ام سلمہ‬ ؓ ک‬ے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ کے سامنے سے سیدنا عبداللہ ؓ یا عمر بن ابوسلمہ ؓ گزرنے لگے تو نبی ﷺ نے ہاتھ (کے اشارے) سے روکا، وہ واپس پلٹ گئے، پھر سیدہ زینب بنت ام سلمہ ؓ گزرنے لگیں تو آپ ﷺ نے ہاتھ سے اسی طرح منع کیا لیکن وہ گزر گئیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’عورتیں غالب آ جاتی ہیں۔‘‘